Kuwait History And Nation

تاریخ کویت
صباح الأحمد الجابر الصباح
 Sabāh al-Ahmad al-Jābir

 as-Sabāh
أمير دولة الكويت الخامس عشر
اگر آپ ایشیا کا نقشہ دیکھیں اور بحیرہ ہند  کے حصے خلیج فارس ے انتہائی آخر یا کونے میں دیکھیں تو آپ کو
برّ اعظم ایشیا کے جنوب مغرب کی جانب خلیج عرب میں 17,820 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ایک ننھاسا آزاد عرب ملک  کویت آپ کو نظر آئے گا
۔ کویت کے شمال میں عراق کے حدود ملتے ہیں تو جنوب سعودی عرب سے ملا ہوا ہے اور اس کے شمال مغرب میں خلیج فارس کے سواحل ہیں ۔’کویت ‘ اس جزیرة نما ملک کا تاریخی نام ہے ۔ جو عربی لفظ’ کوت‘ سے آیاہے ۔ اور’ کوت‘ عربی زبان میں اس عمارت کو کہتے ہیں جہاں اسلحہ جمع کیا جاتا ہے ۔’کوت‘ اس قلعہ کو بھی کہتے ہیں جو پانی کے کنارے تعمیر پاتا ہے ۔
 کہا جاتا ہے کہ تاریخ میں ’کویت ‘ کا نام پہلی بار سکندراعظم کے زمانے میں استعمال میں آیا۔ اس نے جزیرة فیلکا کو بسایا اور اس کا نام ایکاروس رکھ دیا۔
سترہویں صدی اور اس سے پہلے یہ خطہ ’قرین‘ کے نام سے جانا جاتا تھا جس کے معنی ٹیلا، تودہ اور اونچی زمین کے آتے ہیں ۔
 جدید ’کویت ‘
کی تاریخ سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی کے آغاز سے شروع ہوتی ہے
۔ بنو خالدکا قبیلہ سرزمین نجد سے تعلق رکھتاتھا ۔
 انہوں نے اس شہر کی داغ بیل ڈالی اورشہر کے اطراف قلعہ کی تعمیر کروائی ۔قلعہ کی دیواریں پہلی بار 1760ءمیں پایہ ¿ تکمیل کو پہنچیں۔ آل صباح کا تعلق اسی قبیلے سے تھا ۔ نجد سے نکل کر اس خاندان نے یہاں پر سکونت اختیار کی ۔اس عہد میں یہ شہر پھولا پھلا اور دنیا والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔آل صباح کے خاندان نے اس کی تعمیر و ترقی میں بڑی قربانیاں دی تھیں ۔
 لوگوں نے ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے 1752ءمیں صباح بن جابر کے ہاتھوں پر بیعت کی اور ان کو اپنا حاکم تسلیم کیا ۔ ایک تجارتی شہر پر ہر کسی کی نظر ہوتی ہے ۔ قدیم زمانے ہی سے کویت ایک اہم تجارتی مرکز مانا جاتا تھا اور اس کی بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت اور لین دین کے سلسلے میں اہم رول ادا کرتی تھیں۔ اس لیے اس پر دشمنوں کے حملے کا اندیشہ ہمیشہ رہا ہے ۔ جدید کویت کی تعمیر کے بعد اس پر ترک عثمانیوں کی نظر تھی۔انیسویں صدی میں عثمانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا ۔ 23 جنوری 1899 میں شیخ مبارک نے برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ، جس کا مقصد عثمانیوں کے چنگل سے کویت کو نکالنا تھا ۔اس معاہدہ کی وجہ سے برطانیہ،کویت کے خارجی پالیسی پر مکمل طور پر حاوی ہوگیا۔ اس کے بعد 1913 میں اینگلو عثمان سمجھوتے پر دستخط کے بعد حکومتِ برطانیہ اور عثمانی حکومت نے امیرِ کویت ’شیخ مبارک الصباح‘ کوخود مختار کویت سٹی کے حکمراں کے طور پر نامزد کیا۔مگر پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے کے فورا ًبعد اس معاہدہ کو توڑتے ہوے برطانیہ نے اعلان کیا کہ’کویت‘ سلطنت برطانیہ کے ماتحت ایک آزاد بادشاہی نظام والا ملک ہے“۔ ’شیخ مبارک الصباح‘کے دور میں کویت میں تعلیمی بیداری پیدا ہوی ۔ 1911 ء میں ’مدرسہ مبارکیہ ‘ کے نام سے کویت کا سب سے پہلا تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا تھا ۔یہ نسبت شیخ مبارک ہی کی طرف تھی ۔ انہیں کی ایماءپر1914 ءمیں’مستشفیٰ امریکی‘ کے نام سے ’کویت سٹی‘ میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی ۔ یہ کویت کی پہلی عمارت تھی جس میں سمینٹ اور لوہے کا استعمال ہوا ۔1915 ءمیں جب شیخ مبارک رحلت فرماگئے تو ان کے بڑے بیٹے شیخ ’جابر المبارک الصباح‘ ان کے جانشین بن گئے ۔ ان کی مدّت حکومت صرف دو سال تھی ۔ ان کے بعد ان کے برادر شیخ ’سالم المبارک الصباح ‘ نے تاج و تخت سنبھالا۔ کویت کی تاریخ میں سب سے بڑا معرکہ’معرکة الجھرائ‘ انہیں کے زمانے میں پیش آیا ۔نجدی حکومت کے ساتھ حدود کا مسئلہ اس کا اہم سبب تھا ۔ 1921 ءمیں شیخ احمد جابر الصباح حکومت کی کرسی پر براجمان ہوے ۔ آپ بڑے دلیر ، حاضر دماغ اور دور اندیش لیڈر تھے ۔ مشکل گھڑیوں میں بڑی آسانی سے اپنی قوم کو بچ نکلنے کا راستہ دکھا دینا ان کی خا صیت تھی۔1937 ءکوشیخ احمد جابر الصباح کے عہد ہی میں کویت میں پہلی بار ’پٹرول ‘ دریافت ہوا اور30 /جون 1946 ءکوپہلی بار زیرِ زمین سے ’پٹرول ‘ برآمد کیا گیا ۔ 1948 ءکوشیخ احمد جابر الصباح ہی کے دورِ حکومت میں ’احمدی‘ شہر کی بنیاد ڈالی گئی جو انہیں کے نام کی طرف نسبت رکھتا ہے ۔1950 ءمیںشیخ احمد جابر الصباح وفات پاگئے اور عبد اللہ السالم الصباح کویت کے امیر قرار دیے گیے۔یہ وہ پہلے امیر تھے جنہوں نے کویت میںسیاسی زندگی کو نظم سے جوڑا اور یہاں پر سیاست کو ایک نیا رُخ دیا ۔ انہوں نے اس کے لیے ایک دستور بھی وضع کیاجس کی وجہ سے انہیں ’ابو الدستور ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کے عہد میں وسیع پیمانے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوا جس کی بنا پر قلعہ کی دیواریں منہدم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور 1957 ءکوقلعہ کے پانچ مرکزی دروازوں کو باقی رکھتے ہوے ساری دیواریں گرادی گئیں ۔